مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محسن محبی نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے اقتصادی جنگ میں شدت لائے جانے کے باوجود ایران نے دشمن کی ہر سازش اور کارروائی سے نمٹنے کے لیے مختلف منصوبے تیار کر رکھے ہیں۔
جنرل محبی نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی صدر خود کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے ایران کے خلاف اقتصادی جنگ کا حکم دیا ہے اور ایران کے خلاف تاریخ کی شدید ترین اقتصادی جنگ شروع کردی ہے۔ یہ اعتراف دراصل فوجی میدان میں دشمن کی شرمناک شکست کا خاموش اعتراف ہے۔
سپاہ پاسداران کے ترجمان نے کہا کہ اگر امریکہ فوجی میدان میں کامیاب ہوگیا ہوتا تو اسے اقتصادی جنگ شروع کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا اقتصادی جنگ کوئی نئی چیز ہے؟ ہرگز نہیں، امریکہ گزشتہ 47 برس سے ایران کے خلاف اقتصادی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے اور ایران کے تقریباً تمام اقتصادی شعبوں پر پابندیاں عائد کرچکا ہے۔
جنرل محبی نے کہا کہ ایران بارہا واضح کرچکا ہے کہ دشمن کی ہر مخاصمت آمیز کارروائی کے لیے اس کے پاس ایک مخصوص منصوبہ موجود ہے۔ اقتصادی جنگ بھی دشمن کی انہی کارروائیوں میں شامل ہے۔ ایران نے اس کے منفی اثرات کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلقات آسانی سے قائم رکھنے کے لیے بھی منصوبہ تیار کر رکھا ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ اقتصادی میدان میں کوئی تشویش نہیں ہے۔ ایران امریکہ کے بالکل قریب واقع ممالک کے ساتھ بھی اقتصادی روابط رکھتا ہے، امریکہ کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے اقتصادی معاملات آگے بڑھا رہا ہے اور اس کے نتائج بہت جلد سب کے سامنے ہوں گے۔
آپ کا تبصرہ